ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / راہل گاندھی کی قیادت میں ’بھارت جوڑو یاترا ‘ کا آغاز، ملک کے جنوبی سِرے کنیاکماری سے پیدل مارچ شروع ،پارٹی کارکنان پُرجوش

راہل گاندھی کی قیادت میں ’بھارت جوڑو یاترا ‘ کا آغاز، ملک کے جنوبی سِرے کنیاکماری سے پیدل مارچ شروع ،پارٹی کارکنان پُرجوش

Thu, 08 Sep 2022 11:58:38    S.O. News Service

کنیا کماری، 8؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)مشن ۲۰۲۴ء کیلئے  کانگریس پارٹی کی جانب سے بھارت جوڑو یاترا زور و شور سے شروع ہو گئی  ہے۔ کانگریس کے لیڈران اور کارکنان انتہائی پرجوش ہیں۔ جب راہل گاندھی ترنگے کو لے کر آگے بڑھتے نظر آئے تو کارکنان کے چہرے پر ایک چمک دکھائی دے رہی تھی اور ان کے ساتھی قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھ رہے تھے۔ واضح رہے کہ کانگریس کی  بھارت جوڑو یاترا  ملک کے انتہائی جنوبی کنارےکنیا کماری سے شروع کی گئی ہے جس کی قیادت راہل گاندھی کررہے ہیں۔  راہل گاندھی نے اس یاترا کو پہلے جھنڈی دکھا کر روانہ کیا اور پھر اس میں خود شامل ہو گئے۔ اس موقع پر اپوزیشن ریاستوں کے متعدد وزرائے اعلیٰ بھی موجود تھے ۔ ان سبھی نے کانگریس پارٹی کی اس پہل کا خیر مقدم کیا۔ ترنگا جھنڈا راہل گاندھی کو تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے پیش کیا جبکہ اس موقع پر چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل اور راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ کانگریس پارٹی کی ۳؍ ہزار ۵۷۰؍ کلومیٹر کی یہ بھارت جوڑو یاترا  ملک کی ۱۲؍ ریاستوں اورمرکز کے ۲؍ زیر انتظام علاقوں سے ہوکر گزرے گی ۔

      کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت، سینئر لیڈردگ وجے سنگھ اورجے رام رمیش نے ’بھارت جوڑو‘  یاترا کے آغاز سے پہلے یہاں صحافیوں سے مشترکہ طور پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نفرت کا ماحول ختم کرنے اور سب کو آپس میں جوڑنے کے لیے بھارت جوڑو یاترا کا انعقاد کیا جا رہا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ اس یاترا سے نفرت کو کم کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کوششیں کر کے نفرت کا ماحول ختم نہ کیا گیا  تو ملک میں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ کانگریس بھارت جوڑو یاترا کے ذریعے نفرت کے ماحول کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گاندھی کے ملک میں نفرت  اور تعصب کی کوئی جگہ نہیں ہے اور اسے روکنے کے  لئے بھارت جوڑو یاترا اہم کردار ادا کرے گی۔

  یاترا شروع کرنے سے قبل نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا  کے ساتھ ساتھ ملک کے ہر پارلیمانی حلقے میں اس یاترا سے متعلق پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں۔ یاترا کا  پہلا مرحلہ صبح ساڑھے ۱۰؍ بجے تک چلے گا جبکہ شام کا مرحلہ سہ پہر ۳؍ بجے شروع ہو گا۔ یاترا  سے سب کو جوڑا جائے گا اور تمام لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔     انہوں نے کہا کہ یہ ملک کے لوگوں کو جوڑنےکا ایک منفرد مارچ ہو گا ۔  وینو گوپال کے مطابق راہل گاندھی  پیدل یاترا کے  پیدل یاتری  ہی  رہیں گے لیکن وہ دوسری پارٹیوں کے دیگر پروگراموں میں بھی شرکت کرتے رہیں گے۔ اس دوران پارٹی کم از کم  ۱۰۰؍ پارلیمانی حلقوں میں براہ راست پہنچنے کی کوشش کرے گی جبکہ دیگر پارلیمانی حلقوں کے لئے بھی اس نے پورا منصوبہ تیار کر رکھا ہے جسے عملی جامہ پہنایا جارہا ہے۔ 

  راہل گاندھی نے کنیا کماری سے سری نگر تک پانچ ماہ سے زیادہ طویل عرصے تک چلنے والی ’بھارت جوڑو یاترا‘ شروع کرنے سے پہلے صبح یہاں اپنے والد اور ملک کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی یادگار پر جاکر گلہائے عقیدت نذر کرکے انہیںخراج عقیدت پیش کیا۔ راہل گاندھی نے یاترا کے آغاز سے عین قبل سابق وزیر اعظم کے شہید ہونے کے  مقام پر منعقدہ ایک دعائیہ جلسے کے بعد راجیو گاندھی کی تصویر پر پھول چڑھائے۔ اس کے بعد  راہل گاندھی سنت تھروولوور میموریل مقام، کام راج میموریل اور گاندھی منڈپم کا دورہ کیا ۔ اس کے بعد وہ کنیا کما ری میں ویویکانند میموریل بھی گئے۔    

 ہندوستان میں بھائی چارہ اور اتحاد کو فروغ دینے کے مقصد سے کانگریس کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ تمل ناڈوکے کنیاکماری سے  شروع ہو گئی ہے۔ اس موقع پر کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی سمیت کانگریس اور دیگر پارٹیوں کے سرکردہ  لیڈران  اور کارکنان موجود رہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی طبیعت خراب  کے سبب اس تاریخی ’بھارت جوڑو یاترا‘ میں شریک نہیں ہو سکیں۔ اس تعلق سے انھوں نے ایک جذباتی پیغام جاری کیا ۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ طبی معائنہ کی وجہ سے میں آج شام کو کنیاکماری سے کشمیر تک چلنے والی تاریخی بھارت جوڑو یاترا کے آغاز کے وقت ذاتی طور پر آپ سب کے ساتھ نہیں ہوں، جس کا مجھے افسوس ہے۔یہ ہماری عظیم پارٹی، یعنی انڈین نیشنل کانگریس کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ ہماری تنظیم ایک بار پھر سے سرخرو ہوگی۔بھارت جوڑو یاترا میں شامل ہونے والے لیڈران اور عوام کو لے کر سونیا گاندھی نے اپنے تحریری پیغام میں خوشی کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستانی سیاست میں ایک تبدیلی کا لمحہ ہے۔میں خاص طور پر اپنے تقریباً ۱۲۰؍ ساتھیوں کو مبارکباد دینا چاہتی ہوں جو تقریباً ۳۶۰۰؍ کلومیٹر طویل پد یاترا کو مکمل کریں گے۔ سیکڑوں اور ہزاروں دوسرے لوگ بھی مختلف ریاستوں میں اس پد یاترا میں شامل ہوں گے اور میں ان کو بھی مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ انہوں نے پارٹی کے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ہر پارلیمانی حلقے میں اس یاترا کے تعلق سے بیداری پیدا کرنے کی کوشش کریں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پارٹی کا پیغام پہنچانے کے لئے کمر بستہ ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ موقع ہے جب پارٹی کا پیغام ملک کے ایک ایک فرد تک پہنچے اور اسے بتایا جائے کہ مرکزی حکومت کس طرح سے ملک کو تباہ و برباد کررہی ہے۔ 

 تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن نےراہل گاندھی کو قومی پرچم سونپ کر اس یاترا کا باقاعدہ آغاز کیا ۔  اس موقع پر اسٹالن کے ساتھ راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت اور چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے مہاتما گاندھی منڈپم میں مشترکہ طور پر راہل کو قومی پرچم سونپا۔ اس کے بعد راہل نے ایک جلسہ عام سے خطاب کیا۔مسٹر راہل گاندھی نے اپنی بھارت جوڑو یاترا شروع کرنے سے پہلے وویکانند اور سنت اور تمل شاعروں تھروولوور اور کامراج کی یادگاروں کا بھی دورہ کیا۔

  بھارت جوڑو یاترا کا آغاز کرنے کے بعد عوام سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اس خوبصورت جگہ سے بھارت جوڑو یاترا شروع کرتے ہوئے مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ قومی پرچم اس ملک میں رہنے والے ہر شخص کے مذہب اور زبان کی نمائندگی کرتا ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس سوچتے ہیں کہ یہ قومی پرچم ان کی ذاتی ملکیت ہے لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ قومی پرچم اس ملک کی اور اس جمہوریت کی ملکیت ہے جسے ہم ہر حال میں محفوظ رکھیں گے ۔ انہوں نے ملک کی دگرگوں معاشی حالت ، سماجی ہم آہنگی اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور مودی سرکار کو جم کر نشانہ بنایا۔


Share: